31 اگست 2013 - 19:30
کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال غیر قانونی ہے

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے روس کے صدر ولاديمير پوتن سے ٹيليفون پر شام کے بارے ميں تبادلہ خيال کيا ہے ۔

ابنا: صدر نے اس ٹيليفوني گفتگو ميں کسي بھي ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کو غير قانوني اور بين الاقوامي اصولوں کي کھلي خلاف ورزي بتايا ہے ۔انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ علاقائي امور ميں ايران اور روس کے نظريات مشترک ہيں، کہا کہ ايران مختلف امور بالخصوص خطے کے مسائل ميں تہران اور ماسکو کے درميان تعاون اور مشاورت جاري رہنے کا خواہشمند ہے۔ اس کے ساتھ ہي ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے بھي شام کے بارے ميں دنيا کے مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹيليفون پر مشاورت کا سلسلہ جاري رکھا ہے ۔ انہوں نے مختلف يورپي ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہي شام کے امور ميں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے مشترکہ نمائندے اخضر ابراہيمي سے بھي شام کے بارے ميں تبادلہ خيال کيا ہے ۔ انہوں اس ٹيليفوني گفتگو ميں شام کے خلاف بعض حکومتوں کے اشتعال انگيز اور جارحانہ  بيانات کي مذمت کرتے ہوئے، شام کے مسئلے کو پر امن طور پر سفارتي طريقے سے حل کئے جانے کي ضرورت پر زور ديا ہے ۔اقوام متحدہ ميں ايران کے مستقل مندوب محمد خزاعي نے بھي شام پر امريکا کے مجوزہ حملے کي سخت مخالفت کي ہے ۔ انہوں نے ايک بيان ميں اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ ميزائل مشرق وسطي يا دنيا کے کسي بھي گوشے ميں پيغام امن کے حامل نہيں ہوسکتے، کہا ہے کہ ايران شام ميں ہر قسم کي بيروني مداخلت کا مخالف ہے ۔اس کے ساتھ ہي ايران کے وزير خارجہ نے کہا ہے کہ جنگ کا فيصلہ ممالک خود سرانہ طور پر نہيں کرسکتے ، يعني دنيا يہ بات برداشت نہيں کرسکتي کہ ايک ملک يا چند ممالک، خود ہي  وکيل اور خود ہي جج بنيں اور پھر خود ہي احکام پر عمل درآمد کرنے والے کا کردار ادا کريں اور حقائق کو نظر انداز کرکے اپنے مفادات کي بنياد ہر عمل کريں ۔

.......

/169